نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل سودے پر فرانسیسی کمپنی کو بینک گارنٹی دینے سے حکومت نے چھوٹ دے دی۔اس کی جگہ ’لیٹر آف کانفرٹ‘ سے کام چلا لیا گیا۔اس کی وجہ سے رافیل سودے کی قیمت اور بڑھ گئی۔’دی ہندو‘اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا ہے۔اخبار کے مطابق، سودے کے لئے بات چیت کرنے والی سات رکنی ہندوستانی ٹیم (آئی این ٹی) نے 21 جولائی، 2016 کو وزارت دفاع کو دی اپنی رپورٹ میں یہ بتایا تھا کہ بینک گارنٹی سے چھوٹ دینے کی لاگت 57.4 ملین یورو تک ہو گی۔اس کی وجہ سے 23 ستمبر، 2016 کو ہوا 36 پھلاوے طیاروں کے لئے 7.87 ارب یورو کا جو سودا ہوا، وہ یو پی اے حکومت کے سودے کے مقابلے 24.61 ملین یورو مہنگا پڑ گیا۔اخبار نے دعوی کیا ہے کہ 36 رافیل طیارے خریدنے کے لئے بنی مذاکرات ٹیم کی تفصیلی رپورٹ اس نے دیکھی ہے۔اس رپورٹ کے پیراگراف 21، 22 اور 23 میں اس بات کی تفصیلات دیا گیا ہے کہ آخر کس طرح سے بینک گارنٹی کو ختم کرنے کی لاگت 57.4 ملین یورو تک ہوتی ہے۔یہ اعداد و شمار بینک کے 2 فیصد کے سالانہ کمیشن، ہندوستانی بینک کے کنفرمیشن چارج کی بنیاد پر طے کیا گیا، جس کے بارے میں ایس بی آئی نے 2 مارچ 2016 میں بتایا گیا تھا۔اس میں کہا گیا کہ بینک ضمانت ہٹانے سے کل تجارتی اثر سودے کی کل قیمت 7.28 فیصد تک ہوگا۔رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا کہ ہندوستانی مذاکراتی ٹیم فرانس پر بار بار یہ دباؤ بنا رہی تھی کہ سودے میں بینک گارنٹی دی جائے، قانون و انصاف کی وزارت نے بھی دسمبر، 2015 میں تحریری طور پر یہ مشورہ دیا تھا کہ ایک قانونی حفاظتی اقدامات کے طور پر فرانس سے بینک ضمانت لی جانی چاہئے، کیونکہ اس سودے میں کافی بڑی رقم لگنے والی ہے لیکن آئی این ٹی کی حتمی آخری رپورٹ میں اس صورت میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے کہ بینک گارنٹی نہ ملنے کا کمرشیل اثر کیا ہوگا۔غور طلب ہے کہ ملک بھر میں 2019 کے عام انتخابات کا ماحول بن گیا ہے ایسے میں مودی حکومت اپنی فلاحی اسکیموں کو سامنے رکھ عوام کو ترقی کا ثبوت دے رہی ہے تو کانگریس نے حکومت کے خلاف رافیل ڈیل کو لے کر مورچہ کھول دیا ہے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس دفاعی سودے میں نہ صرف گھوٹالے کا دعوی کیا ہے، بلکہ براہ راست طور پر اس ڈیل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔